aik thi salah
Episode # 13
کل جو بھی ہنگا مہ ہو ا تھا سب کے د ما غ میں سو ا ل ا ٹھ ر ہے تھے پر پو چھنے کی ہمت تو کسی میں بھی نہ تھی انابیہ کی می نے تو کا ل کر کے ا سکو ا بو کو ا یک ا یک با ت بتا ئی تھی اور نا یا ب کو بھی پر ا نکو ا ن د و نو ں کی طرف سے بھی کو ئی خا ص جو ا ب نہ مل پا یا تھا وہ بھی کچھ نہ جا نتے تھے بھلا ا یک ملا ز مہ کی بیٹی کا ابر ا ہیم اور سا جد ہ سے کیا تعلق ہو سکتا تھا چچی نے ا نا بیہ کو حو ر ین سے ملنے جلنے سے ا بھی کے لیے منع کیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ حو ر ین کی و جہ سے ا نا بیہ پر سو ا ل ا ٹھتے حو ر ین نے بھلے نہیں بتا یا تھا کہ ا نا بیہ عا بد اا نکل سے ملاقا ت کے با ر ے میں کچھ نہیں جا نتی پر وہ ما ں تھی پتہ تھا ا یسا تو کبھی نہیں ہو سکتا تھا ا ور ا س سے پہلے کے دادی کے شک کی سو ئی ا س کی طر ف گھو متی اسکا ان سب سے دو ر ر ہنا ہی ٹھیک تھا حو ر ین کے چیخنے سے
اور تو کیا ہی ہو نا تھا ا لٹا د ا دی اور ا س کے با پ کو لگ ر ہا تھا وہ بگڑ ر ہی ہے اس سے پہلے کے وہ مز ید بگڑ تی اس کی شا د ی کر دی جا ئے وہ ہی بہتر تھا ا ور د ا دو نے کل ر ات ا تنا کچھ ہو نے کے با و جو د بھی ا گلے ما ہ کی پند ر ہ کو اس کے لیے ا یک چھو ٹا سا فنکشن منعقد کر و ا یا تھا جس میں سا د گی سے ا س کا نکا ح کر د یا جا تا ا سی
آ د می کے بیٹے سے جسے اس و قت وہ ا یک سکینڈ بھی بر د ا شت نہیں کر سکتی تھی پر حو ر ین اب کچھ نہیں بو لی تھی ا پنی ما ں سے بھی نہیں جب صبح ا نہو ں نے اسے یہ خبر سنا ئی تھی جا نتی تھی جو وہ کر نا چا ہتی تھی اس کے لیے اسے د ا دی کی نظر و ں میں پہلے وا لی حو ر ین ہی بن کر ر ہنا تھااگر ا بھی کچھ کر تی تو ہو سکتا تھا وہ اس کا باہر آنا جا نا بھی بند کر د یتی۔
”اسجد کو ا بھی اس با ر ے میں کچھ نہیں پتہ تمہا ر ی د ا دی کو لگتا ہے شا ید اسکو ا عتر ا ض ہو کل تم میں نے انہیں جو بھی کچھ کہا تھا ا س لیے“ وہ ا س کے چہر ے کی طر ف د یکھ ر ہی تھی جو کہ چپ چا پ کہیں جا نے کی تیا ر ی کر ر ہی تھی۔
”حو ر ین“ ا سکو چپ د یکھ کر ا نہو ں نے پھر سے ا سے پکا ر ا تھا وہ چا ہتی تھی وہ کچھ تو بو لے ا پنے ا ند ر کی بھڑاس نکا ل لے پر وہ تو ا یسے ظا ہر کر رہی تھی جیسے کچھ ہو ا ہی نہ ہو۔
”امی میں ٹھیک ہو ں ا ٓ پکو تو معلو م ہی ہے آ ج تک میر ے سا ر ے فیصلے د ا دو نے ہی کیے ہیں وہ وہی کر تی ہیں جو میر ے حق میں بہتر ہو تا ہے آ پ بلا و جہ فکر کر رہی ہیں“ وہ ا پنی تیا ر ی مکمل کر کے ان کی طر ف د یکھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”کہا ں جا ر ہی ہو یو نیو ر سٹی سے تو آ ج بھی چھٹی ہے“ اسکو ا تنا مطمئن د یکھ کر ان کے پا س ا لفا ظ ختم ہو گئے تھے۔
”میں ا شر ف ا نکل کی طر ف جا ر ہی ہو ں“ اسکی با ت سن کر وہ کچھ بو لنے ہی لگی تھی ا س سے پہلے ہی وہ بولی تھی ”میں نے د ا دو سے ا جا ز ت لے لی تھی اور ا ن کی با ت بھی کر وا د ی تھی ا شر ف ا نکل سے“ وہ ا نکو
تسلی د یتے ہو ئے بو لی تھی انکو ا للہ حا فظ کہتی و ہا ں سے نکل گئی پیچھے وہ چپ چا پ ا سے د یکھتی ہی ر ہ گئی تھی
انہیں شر و ع سے ہی حو ر ین کے لیے ز ین پسند تھا کل حما د نے جب ا نہیں یہ با ت بتا ئی تب ا نہو ں نے کو شش کی تھی پر ا نکی چلتی کہا ں تھی شر و ع سے ہی انکی ا و لا د کے فیصلے وہ اور سا جد ہ لیتی آ ئی تھی انکو لڑ نا جھگڑ نا یا بحث کر نا کبھی آ یا ہی نہیں تھا وہ سید ھی سی عو ر ت تھی ا گر ا نا بیہ کی ما ں کی طر ح ہو تی تو شا ید کچھ کر لیتی وہ کسی اور معا ملے میں تو سا جد ہ کی ہر با ت ما ن لیتی تھی پر ا پنی ا و لا د کے لیے نہیں ا ن کے با ر ہا ں کہنے کے باوجودبھی ا نہو ں نے ا پنے بیٹو ں کو ا د ھر نہیں بلا یا تھا جہا ں وہ پڑ ھنا چا ہتے تھے ا نہیں و ہیں پڑ ھا رہی تھی
جبکہ حو ر ین کے لیے اس نے کتنی منتیں کی تھی سا جد ہ کی ا ور حما د کی کہ ا سے جو وہ پڑ ھنا چا ہتی ہے پڑ ھنے دے اگر ا سجد اس کے لیے نہ کھڑ ا ہو تا تو وہ کبھی بھی ممکن نہ ہو پا تا ا سجد کی با ت ا ور تھی وہ با پ کا لا ڈ لہ تھا ا سکی با ت حما د نے کبھی ہی ٹا لی ہو شا ید مگر اس با ر تو لگ رہا تھا ا سکی بھی نہیں سنی جا ئے گی۔
Read More: Episode 1 Link .......................
ا شرف ا نکل سے کتنی ہی د یر تک وہ کیس کے متعلق ڈ سکس کر تی ر ہی تھی اور انکل نے اسے ا یک چھو ٹی سی بر یک د ی تھی اور خو د کسی کا م سے با ہر گئے تھے اور حو ر ین ا سی و قت کا ا نتظا ر کر رہی تھی اور جا تے ہی ا س نے عا بد ا نکل کو کا ل ملا ئی تھی کر تو وہ یہ کا م ا پنے گھر میں بھی سکتی تھی پر د ا دو نے اب ا سے سختی سے عا بد سے ملنے اور با ت کر نے سے منع کیا تھا اور شا ید کسی کو اس پر نظر ر کھنے کے لیے بھی کہا ہو تو ا حتیا ط ضر و ری تھی وہ کچھ نہ بھی کہتی تو بھی حو ر ین کو ا نکو چہر ے سے ہی لگ ر ہا تھا وہ ا و پر جتنی بھی لا پر و اہ بنی تھی عا بد ا نکل کے سامنے پر صا ف لگ ر ہا تھا وہ ڈ ری ہو ئی تھی اور حو ر ین کا نکا ح بھی ا سی لیے جلد ی کر ر ہی تھی بے شک عابد ا نکل نے کہا تھا کہ وہ ا پنی د ا دی کو ٹھیک سے نہیں جا نتی پر وہ ا پنی ما ں سے ز یا د ہ ا نکی گو د میں پلی بڑ ی تھی ا نکو چہر ے کے بد لتے تا ثر ا ت کو ا یک سکینڈ میں اسے پتہ چل جا تے تھے اور اس و قت وہ کا فی محتاط ہو رہی تھی۔
”انکل آ پ نے کہا تھا ا گر میں صا لحہ کے با ر ے میں جا ننا چا ہو ں تو آ پ میر ا مکمل سا تھ د ے گے“ ان کو کا ل کر کے سلا م د عا کے بعد حو ر ین نے سید ھا مو د ے کی با ت کی تھی اس کے با پ اوردا دی سے ا تنی ذلالت کے بعد بھی انہو ں نے اس کے سلا م کا ا سی پیا ر سے جو اب د یا تھا جیسے وہ پہلے د یتے تھے جبکہ د و سر ی طر ف عا بد تو ا سکی کا ل پر حیر ا ن تھا انہو ں تو لگا تھا کل کے بعد شا ید ہی وہ اسکی آ و ا ز سن پا تے سا جدہ ا یسے کب ہو نے د ے سکتی تھی۔
”ہا ں بیٹا میں آ ج بھی ا پنی با ت پر قا ئم ہو ں تو ٹھیک ہے آ پ کر ے جو کر نا ہے آ پکو“وہ ا رد گر د د یکھتے ہوئے بو لی تھی اس کے سا منے میز پر فا ئلو ں کا ا یک ڈ ھیر پڑ ا تھا جن میں وہ سر کھپا ر ہی تھی پہلے۔
”ٹھیک ہے بیٹا جیسے آ پ چا ہتی ہو و یسا ہی ہو گا کیا میں پو چھ سکتا آ پ کے سا تھ ا یسا کیا ہو ا جو آپ آ ج اپنی د ا دی کے خلا ف بھی کھڑ ی ہو نے کو تیا ر ہیں“ وہ ا س کے لیے فکر مند ہو ئے تھے۔
”ا نکل میر ے پا س ز یا د ہ و قت نہیں ہے“ وہ جانتی تھی وہ کیا پو چھنا چا ہ ر ہے تھے پر وہ اس و قت ان کوکچھ بھی نہیں بتا سکتی تھی۔
”ٹھیک ہے جیسے آ پکو منا سب لگے پر اس کے لیے مجھے آ پکی مدد کی ضر و ر ت ہے“ پھر وہ ان کی کہی ا یک ایک با ت کو غو ر سے سنتی گئی۔
...................
اسے گھر آ تے عصر کا تنگ ٹا ئم ہو گیا تھا گھر آ ئی تو پتہ چلا ا سجد اسکو ڈھو نڈ ر ہاتھاجا نتی تھی وہ کیا کہے گا پر جب وہ آ ئی تھی تب وہ گھر نہیں تھا۔
”ا می نے بتا یا تھا آ پ میر ے با ر ے میں پو چھ ر ہے تھے“ ر ات کا کھا نا کھا نے کے بعد وہ ا سجد کے پا س آ ئی تھی اس کے کمر ے کا د ر و ا ز ہ نو ک کر کے ا سکی ا جازت لے کر وہ ا ند ر آ ئی تھی اس کے ہا تھو ں میں ایک
فا ئل تھی ا س ہنگا مے میں ا گر کچھ ا چھا ہو ا تھا تو وہ یہ تھا کہ ا سکا ا سجد کے لیے جو بھی نظر یہ تھا وہ بد ل گیا تھااور
اب وہ جو قد م ا ٹھا ر ہی تھی چا ہتی تھی کہ کو ئی اسکا ا پنا ا س کے سا تھ ہو وہ ا کیلی نہیں کر سکتی تھی اور وہ صر ف اسجدہی ہو سکتا تھا کیو نکہ ا نا بیہ کو تو اس سے با ت کر نے کے لیے بھی ا پنی ما ں کی اجا ز ت چا ہیے تھی ا ب تو۔
”حو ر ین جب میں کل تمہا ر ے پا س آ یا تھا کہ ا گر تم ا س ر شتے سے خو ش نہیں ہو تو تم مجھے بتا سکتی ہو تمہیں جا کر د ا دی کے کمر ے میں وہ ہنگا مہ بر پا کر نے کی کیا ضر و رت تھی“ وہ ٹیبل پر مو جو د لیپ ٹا پ پر کچھ کا م کر ر ہا تھا جب وہ آ ئی تھی وہ چھو ڑ کر اس سے مخا طب ہوا تھا چہر ے سے لگ رہا تھا ا سے بھی اس کے نکا ح کا پتہ چل گیا تھااور شا ید وہ حما د سے با ت کر کے آ یا تھا اسی لیے غصے میں لگ ر ہا تھا۔
”آ پ با با سے با ت کر کے آ ئے ہیں“ وہ بیڈ پر بیٹھتے ہو ئے بو لی تھی وہ کچھ بھی کہے بنا د و با ر ہ ا پنا کا م کرنے لگ گیا تھا۔
”آ پکو معلو م ہے مجھے ہمیشہ آ پ سے چڑ ہو تی تھی بلکہ صیح کہو ں تو نفر ت سی ہو تی تھی کہ شا ید آ پ نہ ہوتے تو با با کی تو جہ کا مر کز صر ف میں ہو تی اوپر سے آ پ میر ی سا ری چیز یں چھین لیا کر تے جو بھی مجھے اچھا لگتا اور بعد میں مجھے چڑ ایابھی کر تے تھے تو میں تو شر و ع سے ہی آ پکو ا پنا د شمن سمجھتی تھی تب سے اب تک مجھے ا پنا سہا ر ا صر ف دا دو لگتی تھی کو ئی بھی با ت ہو تی تو میں بھا گ کر ان کے پا س جا تی اور ہر با ر میری با ت کو پو ر ابھی کر دیا کر تی تھی کم از کم مجھے تو یہ ہی لگتا تھا“ ا سجد کے ٹا ئپ کر تے ہا تھ رک چکے تھے اب اسکی با ت سن ر ہا تھا مگر چہر ہ اب بھی لیپ ٹا پ کی طر ف تھا۔
”آ پکو معلو م ہے مجھے یہ کل پتہ چلا تھا کہ میر ا لا ء دا خلہ د ا دو کی و جہ سے نہیں آ پ کی و جہ سے ہو ا تھا اور وہ بھی آپ ہی تھے جنہو ں نے ا شر ف ا نکل سے میر ی پر یکٹس کی با ت کی تھی تو مجھے لگا تھا کہ جیسے وہ مجھے پہلے سمجھتی ہیں و یسے اب بھی سمجھے گی اور میں نے ان سے کو ئی بد تمیز ی نہیں کی تھی بس یہ کہا تھا کہ عا بد ا نکل نے مجھے اس آ د می کی سچا ئی بتا ئی تھی جن کو ا نہو ں نے گھر بلا یا ا س با ت پر ا نہو ں نے وہ ہنگا مہ کھڑ ا کیا تھا۔
”تمہیں پتہ ہے میں ابو کے پا س گیا تھا با ت کر نے جب مجھے پتہ چلا کہ وہ ا گلے ماہ میں تمہا ر ے نکاح کی
بات کر ر ہے ہیں اور ا نہو ں نے پتہ ہے مجھے کیا کہا ہے“ وہ اب ا پنا ر خ مکمل طو ر پر ل سکی طر ف کر چکا تھا اور سو ا ل کیا تھا وہ نا سمجھی میں سر ہلا گئی۔
”ا نہو ں نے کہا کہ عا بد ا نکل نے تمہا ر ا د ما غ خر اب کیا ہو ا ہے وہ چا ہتے ہیں کہ ان کے بیٹے سے تمہا ری شا دی ہو ا ور شا ید تم بھی یہ ہی چا ہتی ہو اس لیے ا س ر شتے کو ختم کر نے کے لیے طر ح طر ح کے بہا نے تلا ش ر ہی ہو“ وہ اب کی با ر بھی سخت لہجے میں بو لا تھا ”حو ر ین میں جا نتا ہو ں تم مجھے سے نفر ت کر تی ہو اورجو کچھ بھی چھو ٹے ہو تے ہوا تھا وہ صر ف بچپنا تھا میں بھی بچہ تھا ا وپر سے با با کے پیا ر نے مجھے تب یہ ہی سکھا یا تھا کہ ہر ا چھی چیز کا حق د ا ر میں ہوں مگر بعد میں جب ہو ش سنبھا لا تو صیح غلط کی پہچا ن ہو ئی تھی مگر تب تک بہت د یر ہو چکی تھی مگر پھر بھی میر ے اس د ن ا تنا کہنے کے بعد تم مجھ پر ا یک با ر تو بھر و سہ کر کے دیکھتی ا گر تم ز ین کو پسند بھی کر تی ہو تو میں تمہا ر ے لیے سب کو ر ضا مند کر ہی لیتا کسی نہ کسی طر ح پر تم جو کر رہی ہو وہ غلط ہے کسی پر یو ں ا لز ا م لگا نا“ وہ اسے خا مو ش د یکھ کر ا ب نر م پڑ چکا تھا جبکہ وہ حیر ا ن تھی جا نتی تھی ا سکا با پ اس سے پیا ر نہیں کر تا پر اسے یہ نہیں لگا تھا کہ وہ اس کے با رے میں اس طر ح سو چتا ہو گا مگر اسے اب ا ن سے کو ئی شکو ہ نہیں تھا جس باپ نے ا سے کبھی کسی قا بل سمجھا ہی نہیں تھا وہ اب کیو ں اسکو سمجھتا کمرے کا در و ا ز ہ کھلنے کی آ وا ز پروہ سو چو ں سے با ہر آ پا ئی تھی ان کی ا می اند ر آ ئی تھی ہا تھ میں دودھ کا گلا س تھاجو ا سجد کے لیے لا ئی تھی۔
”حو ر ین تم یہا ں بیٹھی ہو میں تمہا ر ے کمر ے میں د یکھ کر آ ئی ہو ں تمہیں بھی د و دھ د ینا تھا“ وہ ان دو نو ں کو سا تھ د یکھ کر حیر انی کے سا تھ سا تھ خو ش بھی تھی یہ ا یک معجز ہ تھا کم ا ز کم ا ن کے لیے جبکہ وہ ان کے آ نے پر ا ٹھ کھڑ ی ہو ئی تھی۔
”جی ا می بس آ ر ہی تھی“وہ بیڈ پر پڑ ی فا ئل ا ٹھا تے ہو ئے بو لی تھی وہ آ ئی تو یہا ں صا لحہ کی با ت کر نے تھی پر ابھی اسے یہ منا سب نہیں لگا تھا کم ا ز کم جب تک ا سجد اس پر یقین نہ کر لیتا تب تک۔
”مجھے فر ق نہیں پڑ تا با با میر ے با رے میں کیا سو چتے ہیں اور نہ ہی میں کبھی انکی کو ئی غلط فہمی دور کرو ں گی اگر آ پ کو بھی لگتا ہے کہ ا یسا کچھ ہے یا میں کو ئی ا لز ا م تر ا شی کر رہی ہو ں آ پ یہ فا ئل پڑ ھ لی جیئے گا“ وہ فائل اسے کے سا منے پڑ ے میز پر ر کھتے ہو ئے بو لی تھی ”اور اگر آ پکو لگے اس فا ئل میں کچھ ٹھیک نہیں تو آ پ خو د چھا ن بین کر سکتے ہیں اور دا دو یا با با کو کچھ بھی بتا نے سے پہلے سے یہ یا د رکھیے گا کہ آ پ نے مجھے خود آ پ پر بھر و سہ کر نے کا کہا تھا اور وہ میں کر رہی ہوں“ وہ سنجید گی سے بو لتی اور ا پنی ما ں اور اسے دونو ں کو حیر ت میں چھو ڑتی جا چکی تھی اور اسکی ما ں اب سو ا لیہ نظر و ں سے ا سجد کو د یکھ ر ہی تھی جنہیں وہ ا یک ایک کر کے سب بتا تاگیا۔
.....................
حو ر ین ا یک ہفتے بعد یو نیو ر سٹی آ نا شر و ع ہو ئی تھی جبکہ دا دی کو یقین نہ ہو گیا تھا کہ وہ اب د و با ر ہ ا یسی ویسی کو ئی حر کت نہیں کر ے گی تب کہیں جا کر وہ ا نا بیہ آ ئی تو ا کٹھی تھی پر ا نا بیہ نے اس سے کو ئی با ت نہیں کی تھی حو ر ین کے پو چھنے پر بھی ہا ں ہو ں میں ہی جو ا ب د یا تھا اور و ا پسی پر وہ کچہر یو ں میں آ گئی تھی اور انابیہ گھر چلی گئی تھی جہا ں وہ ا نکل سا تھ اسی و کٹم کی فیملی سے ملنے گئی تھی و ہا ں جا کر حو رین کو پتہ چلا تھا وہ کوئی بیس سا ل کا لڑ کا جسے کا کو ئی معد ہ کا تھو ڑا بہت مسئلہ تھا جسے ز یا دہ بڑا ایشو بتا کر اس کی فیملی کو آ ر گن ڈونیشن پر مجبو ر کیا گیا تھا اور ان سے سا ئن کر و ائے گے حو ر ین کے د ل میں اس ا نسا ن کے لیے دن بہ دن نفر ت بڑ ھتی جا ر ہی تھی و ہ و ا پس چیمبر آ ئے تو ا شر ف ا نکل کا کچھ سا ما ن گا ڑی میں رہ گیا تھا جو وہ ا سے لا نے کا بو لتے خود کسی سے ملنے گئے تھے شا ید پہلے و ا لے و کیل سے۔
”کیسی ہو حو ر ین“ وہ گا ڑی سے انکل کا بیگ لے کر پلٹی تو سا منے وہ ہی شخص کھڑا تھا چہر ے پر مکر وہ سی مسکراہٹ لیے ”تم ا ب بھی لگی ہو میر ے کیس پر تم نے بتا یا نہیں ا پنے با س کو کے اب تو ہم ر شتے دا ر ہونے و ا لے ہیں“ وہ اس کی طر ف ہی د یکھ رہا تھا جس کے چہر ے پر ا سے د یکھتے ہی تیو ر یا ں چڑ ھ گئی تھی
اور آنکھوں سے اس کے لیے نفر ت جھلک رہی تھی اسکو د یکھتے ہی حو ر ین کو اس معصو م کا چہر ہ یا د آ ر ہا تھاجو اس لا لچ کی و جہ سے اس د نیا سے گیا تھا۔
”آ پکو نیند کیسے آ تی ہے را تو ں کو آپ کا ضمیر آ پکو ملا مت نہیں کر تا کیا“ وہ خو د پر قا بو نہیں کر پا ئی تھی اور بول ہی پڑ ی تھی۔
”یہ سو ا ل ا چھا کیا تم نے تمہیں پتہ ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا اس ا یک ا نسا ن کی و جہ سے کتنے اور لو گ ز ند ہ ہیں اور صحت مند ز ند گی گز ا ر رہے ہیں اور ہر پل اسے د عا ئیں د یتے ہو نگے میں نے تو بلکہ بھلا ئی کی ہے اس کے سا تھ“ وہ اب کی کھل کر ہنسا تھا۔
”او ہ تو ا گر وہ ا تنا ہی نیک کا م تھا تو آ پ نے خو د کو کیوں قر با ن نہیں کیا یا پھر ا پنے بیٹے کو ا سے کر د یتے“ ویسے بھی نشے کر کے وہ اس د نیا پر بو جھ ہی ہے یہ با ت حو ر ین نے سو چی تھی بس۔
”ا پنی حد میں ر ہو لڑ کی اور ر ہی با ت ضمیر کی اور ملا مت کی جا کے ا پنی دا دی سے پو چھے جیسے وہ سکو ن سے سوتی میں بھی و یسے ہی سو تا ہوں“وہ پھنکا را تھا اس بار۔
”کیا مطلب آ پکا امیر ی دا دی سے کیا ر شتہ آپکا آ پ تو دا دا ا بو کے رشتے دا ر ہیں“ وہ حیرا نی سے بو لی تھی۔ ”اوہ تو تمہیں یہ بتا یا اس نے“وہ بڑ بڑا یا تھا۔
”ا پنی دا دی سے جا کر د و با رہ پو چھنا شا ید اب کی با ر ا نہیں یا د آ جا ئے“ وہحقا ر ت سے بو لا تھا اور غصے سے پا ؤ ں پٹختا و ہا ں سے چلا گیاجب کہ حو ر ین اس کی با تو ں پر سر جھٹکتی اند ر کی طر ف چل دی اب وہ عا بد ا نکل کے با رے میں سو چ رہی تھی انہوں نے اس سے پہلے کے سا ر ے ملا ز مو ں کی معلو ما ت ما نگی تھی جو کہ دادو کی ا لما ر ی میں ر کھی جس کو حا صل کر نا ا ب اور بھی مشکل ہو گیا تھا ا یک تو انا بیہ اس کے سا تھ نہیں تھی دوسر ا اب گر می بڑ ھ چکی تھی تو دا دو ز یا دہ تر ا پنے کمر ے میں ہی ہو تی تھی تو چا بی نہ ہی تو چو ر سکتی تھی ا گر وہ کسی طر ح کا میا ب ہو بھی جا تی تو کمر ے کی تلا شی کس وقت لیتی۔
..................
اسجد اس د ن حو ر ین کے کہنے پر نہ صر ف اس فا ئل میں مو جو د کا غذ و ں کو پڑ ھا تھا بلکہ خو د کے و کیل کو بھی دیکھا یا اور پھر خو د بھی ہر چیز کی تحقیق کی تھی اور جہا ں تک حقا ئق بتا ر ہے تھے سب سچ ہی لگ رہا تھا وہ بابا سے با ت کر نا چا ہتا تھا پر اس سے پہلے حو ر ین سے با ت کر نا ضر وری سمجھا تھا۔
”آ ئی ا یم سو ر ی اس دن غصے میں کچھ ز یا دہ ہی بو ل گیا تھا“ وہ جب گھر لو ٹی تو اسجد پہلے ہی اس کے انتظار میں بیٹھا تھا اس کے پیچھے پیچھے اسی کے کمر ے میں آ یا تھا۔
”اور اسکا ا حسا س کیسے ہو ا“ وہ سا نس لینے کے لیے بیٹھی تھی پو ر ے دن کی تھکی ہا ری تھی اب مز ید بحث کا مو ڈ نہیں تھا اسکا۔
”تم صیح تھی میں نے تمہا ری دی گئی معلو ما ت کی تفشیش کی تھی“ وہ ز مین پرجو تا ر گڑ تا ہو ابو لا تھا جبکہ اس کی بات نے حو ر ین کو اندر تک سکو ن د یاتھا آ خر کو ئی تو تھا ا بر ا ہیم منز ل میں جس نے جذ با تی ہو نے کی بجا ئے د ما غ سے کا م لیا تھا۔
”میں با با سے با ت کر نا چا ہتا ہوں تا کہ اس نکاح کو روک سکو ں“ وہ اس کی طر ف د یکھتا ہوا بو لا تھا۔
”نہیں ا بھی با با سے کو ئی بات مت کر نا“ وہ فو را بو لی تھی۔
”کیو ں“ و ہ حیر ا ن ہو تھا ا سے تو لگا تھا وہ خو ش ہو گی یہ سن کر پر وہ تو ا لٹا ا چھل کر پڑ ی تھی۔
”نہیں ا بھی نہیں پلیز جب میں کہو ں تب کر نا“ وہ جا نتی تھی ا گر وہ اب کچھ کہتا تو الٹا اس پر ہی قصور وار بنا دیا جا تا جب تک کو ئی پختہ ثبو ت نہیں مل جا تا تب تک کسی سے بھی با ت کر نا بے کا ر تھا۔
”وہ کیو ں تمہیں پتہ ہے نا ں تھو ڑے سے دن رہ گئے ہیں“ اس کی حیر ا نی ا ب بھی دور نہیں ہو ئی تھی۔
”اشر ف ا نکل اور میں اس کیس پر کا م کر رہے ہیں میں چا ہتی ہوں جب اس کے خلا ف کو ئی پختہ ثبوت ملے تب بتا ؤ ں سب کو ا بھی نہیں“ وہ اسے سب تو نہیں کہہ پا ئی تھی بس ا تنا ہی کہا تھا۔
”ٹھیک ہے جیسا تم چا ہو گی وہ ہی ہو گا“ اس کو ا تنا پر یشا ن د یکھ کر وہ بو لا تھا ”میں بس یہ کہنا چا ہتا ہو ں کہ تمہیں کو ئی بھی مدد چا ہیے ہو تو تم مجھے کہہ سکتی ہو میں تمہا را سا تھ د ینے کے لیے تیا ر ہوں“ اب کی با ر اسے حو صلہ دیا تھا۔
”جا نتی ہو ں“ وہ آ ہستہ سے مسکر ا ئی تھی دل سے اتنے دنو ں میں شا ید پہلی با ر۔
”ا چھا میں جا تا ہوں تم آ رام کر و“ حو ر ین کے چہر ے پر مسکر اہٹ د یکھ کر اسے سکو ن ہوا تھا۔
...................